تنہا لوگ
Poet: UA By: UA, Lahoreپرسکون موسم میں سکون سے زیادہ بیقراری ہوتی ہے
ایسے تنہا لوگوں پر جان کنی کی کیفیت طاری ہوتی ہے
موسم کی رت بدلتی ہے اور نرم ہوائیں چلتی ہیں
پھول چمن میں کھلتے ہیں لوگ خوشی سے ملتے ہیں
باغوں میں جھولے پڑتے ہیں گلشن میں رونق ہوتی ہے
مسکراتے چہچہاتے رنگ برنگے پنچھی
تتلیاں پھول اور کلیاں کی ہر سو بہار دکھاتے ہیں
جنہیں دیکھ دیکھ کر سارے ہی مسرور سے ہوئے جاتے ہیں
لیکن ایسے موسم میں بھی کچھ چہرے ایسے ملتے ہیں
جو تنہا تنہا رہتے ہیں نہ ہنستے ہیں نہ کھلتے ہیں
ان چہروں پہ ہر دم جاری اک سوگواری ہوتی ہے
افسردگی طاری ہوتی ہے ہر دم بیزاری ہوتی ہے
کوئی بھی موسم ہو ان پر بس ایک سا موسم رہتا ہے
رنگ و خوشبو کی رت میں بھی خزاں ہی طاری رہتی ہے
کیا کیجئیے کہ یہ دنیا ہے اور اس دنیا کی یہ رسم کہن
سچ ہے کہ جو طاری رہتی تھی وہ آج بھی طاری رہتی ہے
پرسکون موسم میں بھی سکون سے زیادہ بیقراری ہوتی ہے
ایسے میں تنہا لوگوں پر جان کنی کی کیفیت طاری ہوتی ہے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






