تنہا لوگ

Poet: UA By: UA, Lahore

پرسکون موسم میں سکون سے زیادہ بیقراری ہوتی ہے
ایسے تنہا لوگوں پر جان کنی کی کیفیت طاری ہوتی ہے

موسم کی رت بدلتی ہے اور نرم ہوائیں چلتی ہیں
پھول چمن میں کھلتے ہیں لوگ خوشی سے ملتے ہیں

باغوں میں جھولے پڑتے ہیں گلشن میں رونق ہوتی ہے
مسکراتے چہچہاتے رنگ برنگے پنچھی
تتلیاں پھول اور کلیاں کی ہر سو بہار دکھاتے ہیں

جنہیں دیکھ دیکھ کر سارے ہی مسرور سے ہوئے جاتے ہیں
لیکن ایسے موسم میں بھی کچھ چہرے ایسے ملتے ہیں

جو تنہا تنہا رہتے ہیں نہ ہنستے ہیں نہ کھلتے ہیں
ان چہروں پہ ہر دم جاری اک سوگواری ہوتی ہے

افسردگی طاری ہوتی ہے ہر دم بیزاری ہوتی ہے
کوئی بھی موسم ہو ان پر بس ایک سا موسم رہتا ہے

رنگ و خوشبو کی رت میں بھی خزاں ہی طاری رہتی ہے
کیا کیجئیے کہ یہ دنیا ہے اور اس دنیا کی یہ رسم کہن
سچ ہے کہ جو طاری رہتی تھی وہ آج بھی طاری رہتی ہے

پرسکون موسم میں بھی سکون سے زیادہ بیقراری ہوتی ہے
ایسے میں تنہا لوگوں پر جان کنی کی کیفیت طاری ہوتی ہے

Rate it:
Views: 791
06 May, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL