تنہا نکل پڑے ھین تنہا سفر کو ہم
Poet: اسد رضا۔۔ By: ASAD, MPK تنہا نکل پڑے ھین تنہا سفر کو ہم۔
لے کر نئی آرزو نئی رہگذر کو ہم۔
ھے جسکی جستجو شاید وہ ملے کہین۔
اے دل ! چھان مارین گے شہر کو ہم۔
کوئی تو ہوگا منتظر ادھر اپنی دید کا۔
راہ چلتے ڈھونڈھ لینگے اس نظر کو ہم۔
سنا ھے اس کے حسن کا شیدا ھے زمانہ۔
کیا برا جو دیکھ لین اس گوہر کو ہم؟
وہ جو اک نگاہ سے دل گرویدہ کر لے۔
بارہا ڈھونڈھتے ہین اس دیدہ ور کو ہم۔
اسد منزل عشق کا کوئی پتہ تو دو۔
کب تک لیےپھرین تنہادل بےصبر کو ہم؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






