تنہائی میں اِک غزل لکھی
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaتنہائی میں اِک غزل لکھی
میں نے لکھی وہ ترے ہونٹوں پر
نہ کاغذ لیا نہ قلم ملی
میں نے بول دیا ترے ہونٹوں پر
تری آنکھیں تھی کچھ جُھکی جُھکی
تری دھڑکن تھوڑی تیز چلی
اِک بار جو میں چُھپ کے سے
میں نے چُوم لیا ترے ہونٹوں پر
تُو شرم سے مجھ سے دُور ہوئی
کچھ کہنے پے مجبور ہوئی
آج ناجانے پھر سے کیوں
وہ بات رُکی ترے ہونٹوں پر
بول تُو کچھ، خاموش ہے کیوں
میںنے پوچھا اُس سے جب یارو
سِمٹ کے سینے سے لگ گئی
کویہ بات نہ کُھلی ترے ہونٹوں پر
پاگل تھا میں نادان بھی تھا
نظروں کی زبان سے نہ واقف نہال
میں پڑھ نہ سکا نہ جان سکا
جو رازِ محبت ترے ہونٹوں پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






