تو تنہا تو نہیں ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

دیار شوق میں دور ہجر کٹتا ہی نہیں ہے
یہاں کوئی ابر سکوں برستا ہی نہیں ہے

آنکھوں میں رہے شام و سحر گہرہ اندھیرا
سیاہ بادل جدائی کا ادھر چھٹتا ہی نہیں ہے

اپنی وحشت کو کیسے ختم کروں تو ہی بتا دے
مجھے خود تو کوئی راستہ ملتا ہی نہیں ہے

ہم نے غم دوراں کے سبھی رنج بھلا دئیے
غم جاناں کا ایسا زخم جو بھرتا ہی نہیں ہے

تمہارے پاس آتے اور تمہیں منا کے لے آتے
مگر ملنے کا تم نے راستہ چھوڑا ہی نہیں ہے

شاید تمہارے دل پہ اثر کارگر کر جاتی
تم نے میری نگاہ میں دیکھا ہی نہیں ہے

عظمٰی وفا کی راہ میں تنہائیاں نہیں
دل تیرا ہمنوا ہے تو تنہا تو نہیں ہے

Rate it:
Views: 982
20 Jan, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL