تو جو بدلا تو مجھے یاد آیا
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratتو جو بدلا تو مجھے یاد آیا
کتنے خو بصورت تھے وہ لہجے جو چھوڑ آئی ہوں
عجب تاریکی سی ہے تیرے چہرے میں
کتنے روشن تھے وہ خدوخال جو چھوڑ آئی ہوں
لاکھ چاہوں وہ اپنے مل جائیں
جنہیں یونہی تیری خاطر جو چھوڑ آئی ہوں
کہاں جاؤ ں کس سے کہوں حال دل
اپنے ہی ہاتھو ں سے اپنے پرسان حال جو چھوڑ آئی ہوں
کسی اور جانب کوچ کروں یا سانسیں دان کر دوں
تیرے ہاتھوںاب آخری امید بھی جو چھوڑ آئی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






