تو سمجھتا ہے ہمارے درمیاں کچھ نہیں
Poet: جہانزیب کُنجاہی دِمشقی By: جہانزیب کُنجاہی دِمشقی, gujratاتنا حُسن ابھی جی بھرا کچھ نہیں
سب کچھ دیکھ کر بھی دیکھا کچھ نہیں
ٹھکرانے سے پہلے اتنا تو سمجھ لو
قیس گر نہیں ہے تو لیلی کچھ نہیں
اِک جاں باقی ہے دینے کو اب
ہمارے پاس اِس کے سوا کچھ نہیں
تجھے لکھوں بھی تو کیا لکھوں
کہنے کو تو پاس رہا کچھ نہیں
سبھی پوچھتے ہیں تیرا تو کون ہے
کیسے کہوں کے مجھے پتا کچھ نہیں
ہزاروں سال بھی جییوں تیرے لیئے
تیرے حُسن کے آگے میری وفا کچھ نہیں
خاک میں مل کر بھی خوش ہوں
یوں لگتا پے جیسے کھویا کچھ نہیں
ہر دعا سے پہلے ہر دعا کے بعد
ربّ سے تیرے سوا چاہا کچھ نہیں
پتہ تو چلے آخر خطا کیا تھی
یوں گم سم ہو جیسے ہوا کچھ نہیں
تو سمجھتا ہے ہمارے درمیاں کچھ نہیں
تو سمجھتا ہے قرینہ تیرا میرا کچھ نہیں
تم ہی تو ہو جسے کھو کر پایا ہے
جہاں سوچتا ہے ہم نے سنوارا کچھ نہیں
جو لوگ خود پرست ہوتے ہیں جہاں
اُن لوگوں میں قیمتِ وفا کچھ نہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







