تو غزل بن کر اگر آئے
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobar KSAتو میری مہندی کو اگر چومے
میں مٹھی کھول دیتی ھوں
میری آنکھوں میں رنگ گھولے
تو پلکیں کھول دیتی ھوں
خشبؤ سے سانسیں مہکا دو
نظر سے مستی چھلکا دو
ھوا بن کے تو اگر آئے
میں کھڑکی کھول دیتی ھوں
نگاھوں میں روشنی بھر دو
ستاروں کی کہکشاں دے دو
تو اگر بادل بن آئے
میں زلفیں کھول دیتی ھوں
الفاظوں کو زباں دے دو
مجھے سارے جہاں دے دو
تو غزل بن کر اگر آئے
میں لبوں کو کھول دیتی ھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






