تو مجھے ہر رنگ میں ہر پھول، ہر کلی میں دکھائی دے
Poet: Syed Farrukh Imdad By: Syed Farrukh Imdad, Lahoreتو مجھے ہر رنگ میں ہر پھول، ہر کلی میں دکھائی دے
اتنا قریب آ کہ مجھے تیری دھڑکن سنائی دیے
اک تیرے آنے کے بعد مجھے میرے گھر کا
اجڑا ہوا باغ بھی گلشن دکھائی دے
یا رب! مجھے محبوب بھی دے تو با کردار دے
خواب میں بھی جس کا چہرہ روشن دکھائی دے
خدایا ایک ہی خواہش ہے جب بھی دعا کے لیے
میں ہاتھ اٹھاوءں تو بس تیری کن سنائی دے
پائل لایا ہوں تیرے واسطے تو بس پھر آج سے
تو جب چلے تو بس مجھے چھن چھن سنائی دے
لکھوایا ہے اس پہ فرخ نے نام بھی اپنا اس لئے
تو یاد تو کرے نا جب تجھے یہ کنگن دکھائی دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






