تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے
جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر
جس نے نیندیں چُرا لی آنکھوں سے
جو کہ اٹکا ہوا ہے پلکوں پر
جس کے دَم سے دُھواں ہے سینے میں
جس کی آتش جلا ےء جذ بوں کو
جس کی قُربت بنی ہے اِک سُو زش
جس نے زخمی کیا ہے نظروں کو
تجھ کو احساس کب ۔۔ کہ اِس دل کے
کتنے جذبے لُٹے ہیں راہوں میں
کتنے صفحے پلٹ چکی ہوں تیرے
کتنے کانٹے چُبھے ہیں سانسوں میں
تُو میرے درد سے نہیں واقف
تیرے دل کا زِیاں ہوا ہی نہیں
میں نے چاہا پرستشوں میں تجھے
تجھ کو اِس کا گُماں ہوا ہی نہیں
تو جو ناآشنا ہے اب مجھ سے
مجھ سے کتنی کہانیاں تھیں تیری
کتنی صُبحیں کرینگی یاد مجھے
کتنی شامیں نشانیاں تھیں تیری
اب تو ایسے لگے ہے ، کہ جیسے
مجھ سے کتنی عداوتیں ہیں تیری
جتنا یکجا کروں ،، یہ بکھرینگی
ریزہ ریزہ رفاقتیں ہیں تیری
تم کو چُننے لگوں تو برسوں میں
میرے لمحے بدلنے لگتے ہیں
ہو کے مانوس میری عادت سے
میرے آنسو پگھلنے لگتے ہیں
تم سے مل کر مجھے یہ علم ہوا
کتنا نازُک وفا کا پہلو ہے
میں نے اکثر ہوا کی آہٹ میں
جس کی دستک سنی ہے وہ تو ہے
جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر
تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے
 

Rate it:
Views: 507
23 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL