تو میرے دل کا سکوں زندگ کا حاصل ہے (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanرہ وفا میں مری چاہتوں کی منزل ہے
تو میرے دل کا سکوں، زندگی کا حاصل ہے
ترے بدن میں گلابوں سی بھینی خوشبو ہے
تری اداؤں میں اک بانکپن ہے،جادو ہے
نہیں ہے کوئی بھی تجھ سا حسیں یہ جان لیا
نظر میں تیرے ہی جلوے ہیں ، دل میں بس تو ہے
ترے خیال سے آباد دل کی محفل ہے
تو میرے دل کا سکوں، زندگی کا حاصل ہے
تجھے میں چاہوں گا شام و سحر مری جاناں
ترے لیے ہی تو ہے میری شاعری جاناں
ہے وعدہ اور نہ دل میں کوئی سمائے گا
یہ پہلا پیار ہے اور یہ ہی آخری جاناں
ترا ہی نام مری دھڑکنوں میں شامل ہے
تو میرے دل کا سکوں، زندگی کا حاصل ہے
رہ وفا میں مری چاہتوں کی منزل ہے
تو میرے دل کا سکوں، زندگی کا حاصل ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






