تو نے تو اے رفیق جاں ، اور ہی گل کھلا دئیے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

تو نے تو اے رفیق جاں ، اور ہی گل کھلا دئیے
بخیہ گری کے شوق میں زخم نئے لگا دئیے

دست ہوا نے ریت پر پہلے بنائے راستے
پھر مرے گھر کے راستے ، گھر سے ترے ملا دئیے

کتنی تھی اجنبی فضا ، پہلے پہل فراق میں
درد کے اشتراک نے دوست کئی بنا دئیے

آمد یار کی خبر سن کے ہم اہلِ شوق نے
پلکوں سے گرد صاف کی رستے میں دل بچھا دئیے

پوچھا تھا کیا پسند ہے تم کو مری بیاض میں
اس نے جدائیوں کے شعر چن کے مجھے سنا دئیے

آخری سنگ میل تک سانس اکھڑی چلی مگر
پیش خیال تھا کوئی ، ہم نے قدم بڑھا دئیے

ایک ستم ظریف نے صبح طرب کے نام پر
اپنا دیا بچا لیا سب کے دئیے بجھا دئیے

کتنا سخن شناس تھا طعنہ دیا تو یوں دیا
آپ کے فن کے رت جگے ہجر نے جگمگا دئیے

Rate it:
Views: 932
27 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL