توڑ کے سارے مراسم وہ بہت دور ہیں اب

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistan

نہ وہ پہلی سی عنایت ہے نہ پہلے سا غضب
توڑ کے سارے مراسم وہ بہت دور ہیں اب

اب جدائی کا ہے موسم وہ ملن رت نہ رہی
جانے پھر لوٹ کے آئے گا زمانہ وہی کب

ایک رسوائی بنی جاتی ہے یہ زیست مری
انگلیاں اٹھتی ہیں مجھ پہ یونہی ہنس دیتے ہیں سب

اب خیالوں میں اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں
اب کسی طور بھی کٹتے ہیں نہ دن اور نہ شب

کوئی بتلائے کہ یہ زیست گزاروں کیسے
آج تک آیا نہ جینے کا مجھے کوئی بھی ڈھب

کوئی بھی آیا نہ اس غم میں تسلی دینے
دوست نکلے ہیں برے وقت میں کتنے ہی عجب

اس کی بازار میں قیمت نہیں ہوتی کوئی
جس کی تھوڑی سی بھی رہتی نہیں لوگوں میں طلب

مجھ سے پھر یوں نہ خفا ہو گی مری جان غزل
میری باتوں کا سمجھ جاؤ اگر تم مطلب

درد میں ڈوبے ہیں زاہد یہ جو دن رات مرے
اس تڑپنے کا بتاؤں تو بتاؤں کیا سبب

Rate it:
Views: 1871
06 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL