توں بانٹے اور میں سمیٹتا جاؤں پیار تیرا
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAتو ہے رفیق میرا، تو ہے حبیب میرا
تو ہے میری جان، میں ہوں نصیب تیرا
تیرے دل کی انجمن میں، میں بستا ہوں
تیری سب اداؤں میں، میں ہی جچتا ہوں
ممکن نہیں اک دوسرے کی دوری کا تصور
برداشت نہ ہوگا اب ہم سے رویوں کا تغیر
جدا نہ ہوں کبھی، کچھ ایسا کر جائیں
اک دوجے میں کچھ ایسے سما جائیں
پیار میرا ہو، دل تیرا ہو
دل میرا ہو، پیار تیرا ہو
میں بانٹوں اور تو سمیٹتی جائے پیار میرا
توں بانٹے اور میں سمیٹتا جاؤں پیار تیرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






