تَم اپنا حصہ رکھ لو میرے حصے کو رہنے دو
Poet: UA By: UA, Lahoreتَم اپنا حصہ رکھ لو میرے حصے کو رہنے دو
اب یہ قصہ ہوا پَرانا اِس قصے کو رہنے دو
یہ تیرا وہ میرا ہے اور یہ میرا وہ تیرا ہے
ایسی باتیں کیوں کریں اس تذکرے کو رہنے دو
تَم نے بھی تو یہ ہی کہا تھا جو تیرا وہ میرا ہے
یہ ادلہ بدلہ کیا ہے ادلے بدلے کو رہنے دو
کس نے کس کو یاد رکھا کون کسے کب بھول گیا
اس جھگڑے میں کیا رکھا ہے اس جھگڑے کو رہنے دو
عظمٰی ہم تو یہ ہی کہیں گے اچھائی کو یاد رکھو
اچھے لمحوں کو دوہراؤ اور بَرے کو رہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






