تُم
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaتُم مری سوچ پہ بیٹھی ہوئی اک تتلی ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
مجھ کو اُلجھائے سے رکھتے تھے تصور کے سراب
تُم سے پہلے تو کھلے تھے نہ خیالوں میں گُلاب
اب سکوں میں ہوں مرے ذہن پہ تُم طاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
پوچھنا کیا ہے؟ معطر سی چلی آیا کرو
چاہتا ہوں کہ تُم اکثر ہی چلی آیا کرو
فیض ہی فیض کا چشمہ یہ سدا جاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
گُل تری راہ جو دیکھے تو مہک اترائے
اور کلی تیری نزاکت پہ کھلے شرمائے
کون ہے جس پہ ترا ناز ادا بھاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
ہاں میں چھو کر تُجھے میلا تو نہیں کر سکتا
رنگ بکھریں گے جو اظہر تو نہیں بھر سکتا
تُجھ کو وہ قید کرے عقل سے جو عاری ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
تُم مری سوچ پہ بیٹھی ہوئی اک تتلی ہو
کتنی رنگین ہو، نازُک سی ہو اور پیاری ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے







