تُو اگر بد گُمان ہو جائے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreتُو اگر بد گُمان ہو جائے
یہ زمیں آسمان ہو جائے
اُس کی یادوں کے سائے میں رہئیے
زندگی کچھ آسان ہو جائے
دیکھ لے وہ اگر محبّت سے
دھوپ ہی سائبان ہو جائے
اِک نظر اُس کودیکھ لے زاہد
تم کو حاصل اِیمان ہو جائے
دیکھ لوبے حجابیاں اُس کی
شیخ جی امتحان ہو جائے
دیکھ کر اُس کے نازِ محبوبی
شیخ پھرسےجوان ہو جائے
شاعروں کی حسین محفل میں
دوستو کچھ بیان ہو جائے
یہی دنیا بہشت ہے پیارے
تُو اگر مہربان ہو جائے
مشکلیں پھر سے آنے والی ہیں
ہر کلی سخت جان ہو جائے
تری کشتی کو کون روکے گا
عزم گر بادبان ہو جائے
ڈھونڈ مرنے کی کوئی ایسی سبیل
زندگی جاوِدان ہو جائے
زخم تازہ کوئی لگا جاناں
دل مرا گلستان ہو جائے
تیر ہو جائے نہ خطا اُن کا
اَب کے دل درمیان ہو جائے
زندگی تو عذاب میں گزری
کاش مرنا آسان ہو جائے
تیر بن کر کیوں نہ نکلے روح
جب کمر ہی کمان ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






