تُو مجھ سے اتنا بدگمان سا کیوں ہے

Poet: Mian Amar By: Mian Amar, Muzafar Garh

تُو مجھ سے اِتنا بدگمان سا کیوں ہے
آخر کچھ تو بول بے زبان سا کیوں ہے

عشق کو تو ہونا چاہیے تھا فقط عشق
مگر یہ ایک کٹھن امتحان سا کیوں ہے

تُو ہے۔ درد ہے۔ اور ہیں تیری یادیں
پھر دل میرا اتنا ویران سا کیوں ہے

وہ جو اپنے آپ کو سمجھتا ہے پارسا
اگر فرشتہ ہے تو انسان سا کیوں ہے

میں نے ڈوب کر کی تیرے حکم کی تعمیل
اے نا خدا اب تُو پریشان سا کیوں ہے

شہرِ محبت میں اگر ہر ہاتھ میں ہے گُل
پھر ہر ایک سر لہولہان سا کیوں ہے

چاند کو چھونے کی ضد کرتا ہے اکثر
یہ دل بچے کی طرح نادان سا کیوں ہے

اِس نفسی‘ نفسی کے عالم میں رہ کر امر
فقط تُو ہی اتنا پریشان سا کیوں ہے
 

Rate it:
Views: 2938
07 Jun, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL