تِیر پھینکا ہوا گمان میں ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتِیر پھینکا ہوا گمان میں ہے
زندگی تو ابھی کمان میں ہے
زور چلتا نہیں وفاؤں کا
کیا محبت کے کاروان میں ہے
ساتھ رہتا ہے روح کا پنچھی
کچھ تو ایسا مری اڑان میں ہے
کیسے باتوں سے دلکشی جھانکے
جب یہ دردِ دہن زبان میں ہے
تیری خواہش میں ٹوٹتا ہے بدن
جانے کیا کیا ترے جہان میں ہے
سرخ ہونٹوں کو چومتی کرنیں
سب نگاہوں کی داستان میں ہے
عزم و ہمت کی داستاں وشمہ
میری کشتی کے بادبان میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






