تڑپ اب شمع اُس کی
Poet: SHAMA By: Shama Chaudhry, walesتصور میں محبت ہی محبت دیکھتے ہیں ہم
جسے محسوس کرتے ہیں وہ لذت دیکھتے ہیں ہم
نشیلی رات کے لمحات رنگ و نور میں ڈوبے
جہانِ عشق میں اپنی ہی جنت دیکھتے ہیں ہم
خیال وخواب کے پیکر بھی جیسے جاگ جاتے ہیں
تمہاری آنکھ سے جب اپنی صورت دیکھتے ہیں ہم
تیری دیوانگی کے یوں تو چرچے تھے زمانے میں
تمہارے نام کی بھی آج شہرت دیکھتے ہیں ہم
کبھی دل ہم سے کہتا تھا کبھی تم پیار مت کرنا
تڑپ اب شمع اُس کی اور وحشت دیکھتے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






