تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ

تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب
بے روزگار گھر سے نِکالا گیا تھا جب

ناکامیوں نے مُجھ میں بڑی توڑ پھوڑ کی
محرُومیوں کی گود میں ڈالا گیا تھا جب

اُس نے تو صاف آنے سے اِنکار کر دیا
احقر منانے، حضرتِ اعلا! گیا تھا جب

تب اُس کی ضِد میں تھا کہ نہ تھا مُمکِنات میں
بچّے کی طرح ڈانٹ کے ٹالا گیا تھا جب

اُس دِن سے یہ وجُود اندھیروں کی زد میں ہے
مُجھ کو اکیلا چھوڑ اُجالا گیا تھا جب

اپنی زبان کاٹ کے جانا پڑا مُجھے
اِک فرد ساتھ بولنے والا گیا تھا جب

تب تک مِرا وجُود ہی گل بھی چکا حُضور
مُدّت کے بعد آ کے سنبھالا گیا تھا جب

اُس کے گلے میں غیر کی بانہوں کے ہار تھے
لے کر خلُوص و پیار کی مالا گیا تھا جب

اب ہیں سمیٹنے میں تُمہیں ہِچکِچاہٹیں
تب کیوں نہ تِھیں رشؔید کو گالا گیا تھا جب

Rate it:
Views: 480
10 Nov, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL