تھا خاص سارے جہاں میں

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistan

تھا خاص سارے جہاں میں کہیں بھی عام نہ تھا
جو درد مجھ کو ملا اس کا کوئی نام نہ تھا

کسی کی یاد میں سڑکوں پہ گھومنا شب بھر
مجھے تو اس کے سوا اور کوئی کام نہ تھا

مرے پہنچتے ہی میخانہ ہو گیا خالی
کیا دل بہلتا کہ باقی تو ایک جام نہ تھا

ہوا کی طرح مسافر رہے ہیں دنیا میں
سفر نصیب تھا اپنا کہیں قیام نہ تھا

میں اس کی میل کو پڑھ کے بھی بےسکون رہا
بہت سے شکوے لکھے تھے پر اک سلام نہ تھا

وہ مجھ کو دل میں سدا ہی برا سمجھتا رہا
مرے خلوص میں گرچہ کوئی کلام نہ تھا

میں در بدر و بڑا بے سکون ہوں لیکن
مجھے تو اپنے بھی گھر میں ملا آرام نہ تھا

جو دل سے نکلے وہی شعر آج زندہ ہیں
کہے جو کہنے کی خاطر انھیں دوام نہ تھا

مرا شریک سفر ہو کے بھی سدا اس نے
دیا جو دل میں مجھے وہ مرا مقام نہ تھا

امیر ہوتے بھی کیسے کہ شاعری زاہد
ہنر تھا پاس مگر اس کا کوئی دام نہ تھا

Rate it:
Views: 545
03 Nov, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL