تھوڑا شکوہ، شکایت، گلا کریں.
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadشکوہ شکایت گلد کریں
نہیں ہے کچھ درمیاں تو ملا کریں
کبھی پہلے نہ ہم سے اس طرح محبت ہوئی
یاد میں اب ہماری جلا کریں
عمر گذر گئی، جناب اب جدا ہو چلے
کچھ تو ہمارے ساتھ برا یا بھلا کریں
گلاب کی طرح خوبصورت آپ ہی تو ہیں
گلاب بن کر صدا میرے دل میں کھلا کریں
حسن بے مثال آپ کو رب نے دیا آپ کو چاہیے
کوئی چاھے یا نہ چاھے ہمارے لیے سجا کریں
درد ہی دیں.... کچھ تو عطا کریں
اب کچھ تو ہماری عاشقی کا صلا کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







