تھوڑی سی خوشی کے لئے غموں سے رشتہ جوڑا ہے ہم نے
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Karachiتھوڑی سی خوشی کے لئے غموں سے رشتہ جوڑا ہے ہم نے
سودا جو نہ کرنا تھا وہی سودا طے کیا ہے ہم نے
کہتے ہیں محبت کی کوئی حد ہوتی نہیں
حد سے گزر کر دیکھا جاں سے بھی گزر کر دیکھا ہے ہم نے
شاید یہ کل ہی کی بات تھی جو بات سے بات نکلی تھی
اب درمیاں فقط خاموشی کو ڈیرا ڈالتے دیکھا ہے ہم نے
سحر پھوٹتے ہی اندھیرے چھٹ جاتے ہیں تاریکی کے سبھی
کبھی کبھی سورج کو بھی چاند کی بانہوں میں سوتا دیکھا ہے ہم نے
آس کے پنچھی سب ہوا ہوئے تو بھی کیا ہوا
خونِ دل سے دیپ امید کا نیا ایک جلایا ہے ہم نے
شاید کل میں نہ رہو ں ۔۔۔۔ نہ یہ محفل ایسی سجے پھر
مگر ایک کے نہ ہونے سے زندگی کو نہ رکتے دیکھا ہے ہم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






