تھکن نہ پوچھئے پتھر سرہانے لگتے ہیں
Poet: By: Ali, Hyderabadتھکن نہ پوچھیے پتھر سرہانے لگتے ہیں
جو نیند آے تیرے خواب آنے لگتے ہیں
سبک نہیں ہےکوئی بھی نظامِ اجر میاں
وفا طلب کو یہاں پر زمانے لگتے ہیں
جنہیں سمجھ ہے وہی چاہتے ہیں نام و متاع
جو بے شعور ہیں ہم کو سیانے لگتے ہیں
وہ دستِ غیب اچانک ہی تھام لیتا ہے
میرے حریف مجھے جب گرانے لگتے ہیں
ہر ایک رہ میں رہِ مستقیم مخفی ہے
تمام شہر ترے آستانے لگتے ہیں
ہمارا قلب زمانوں کے درد رکھتا ہے
ہم ایسے لوگ تو صدیوں پرانے لگتے ہیں
دیوانے لوگ بڑا نام کر کے جاتے ہیں
دیوانے لوگ بڑے ہی سیانے لگتے ہیں
انہیں تو ظلم بھی اپنے نظر نہیں آتے
ہمیں تو آئینے چہرہ دکھانے لگتے ہیں
میں کیسے دور میں لایا گیا مرے مولا
یہاں وفا جو کرو تازیانے لگتے ہیں
وہ رو پڑے مری خوشیوں کی جاں نکل جاے
وہ ہنس پڑے تو میرے غم ٹھکانے لگتے ہیں
تمام سال کرپشن کا گیت سنتا ہوں
بس ایک روز ہی قومی ترانے لگتے ہیں
یہی اعجاز ہے مجھ کو مرے بزرگوں کا
جو دل دکھے کوئی پودا لگانے لگتے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







