تہِ نجوم
Poet: Faiz Ahmed Faiz(Abdul Waheed) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurتہِِ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میں
ہجومِ شوق سے اک دل بے بے قرار ابھی
خمارِِ خواب سے لبریز احمریں آنکھیں
سفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیں
چھلک رہی ہے جوانی ہر اک بُُنِِ مُو سے
رواں ہو برگِ گلِ تر سے جیسے سیلِ شمیم
ضیائے مہ میں دمکتا ہے رنگِ پیراہن
ادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیم
دراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہے
ادائے نیاز سے رنگِ نیاز پیدا ہے
اُُداس آنکھوں میں خاموشی التجائیں ہیں
دلِ حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیں
تہِ نُجوم کہیں چاندنی کے دامن میں
کسی کا حُُسن ہے مصروفِ انتظار ابھی
کہیں خیال کے آباد کردہ گلشن میں
ہے ایک گُُل کہ ہے ناواقفِ بہار ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






