تیرا بس ساتھ مل جائے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillجہاں والے ہماری راہ سے کتنے بے خبر ہونگے
ہمارے پیار کے ہمراہ تو شمس و قمر ہونگے
سہم کر ظلمت شب سے میں کیوں امید کو توڑوں
یہ تیرے ہجر کے لمحے کبھی تو مختصر ہونگے
مجھے معلوم ہے راہ وفا کی ہر ادا جاناں
کبھی سولی پہ تن ہو گا کبھی نیزوں پہ سر ہونگے
ملن کی سب تمنائیں نگاہوں میں سجا رکھنا
وہ دن آئے گا سب موسم تمہاری بام پر ہونگے
خزاں کے زرد پتوں کو سمیٹا میری آنکھوں نے
بہاریں آئیں گی جب تک نجانے ہم کدھر ہونگے
کسی انجان رستے پر تیرا بس ساتھ مل جائے
تو جگنو چاند ستارے ہمارے ہمسفر ہونگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






