تیرا جلوہ شباب لگتا ہے
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukتیرا جلوہ شباب لگتا ہے
مجھ کو جاناں شراب لگتا ہے
چھلکا چھلکا نشہ نگاہوں میں
کھلتے کھلتے گلاب سانسوں مییں
مہکی مہکی ہے آروؤ دل کی
بہکی بہکی ادا ہے باتوں میں
مجھ کو تو لا جواب لگتا ہے
مجھ کو جاناں شراب لگتا ہے
یہ تیرے حسن کا افسانہ
تیری آنکھوں میں قید میخانہ
یہ سب جادوی گری تمہاری ہے
ملتے ہی ہو گیا میں دیوانہ
تیرا چہرہ کتاب لگتا ہے
مجھ کو جاناں شراب لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






