تیرا دل تو شیشہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

زمین ہو کر فلک پانے کی
امید کیوں کی تو نے

کانٹے تھے مقدر میں تو پھر
پھولوں کی امید کیوں کی تو نے

تیرا دل تو شیشہ تھا تو اس کے
جڑے رہنے کی امید کیوں کی تو نے

جبکہ تو اک تاریک رات تھی تو پھر
سویرائے کی امید کیوں کی تو نے

جب دیتے ہیں سب زخم تو پھر
مرہم کی امید کیوں کی تو نے

تھے جب غم کے آنسو تو پھر
خوشی کے آنسوں کی امید کیوں کی تو نے

جب قطرہ تھی محبت اس کی
تو سمندر کی امید کیوں کی تو نے

وہ راہی اور تو رستہ تھی تو پھر
منزل بنے کی امید کیوں کی تو نے

جبکہ انسان ہیں تو ، تو پھر
اس کی زندگی بنے کی امید کیوں کی تو نے

جب وہ رکا ہی نہیں تو اس کے
رکنے کی امید کیوں کی تو نے

اب تو بھول چکا ہیں وہ تو پھر
اس کے لوٹ کی امید کیوں کی تو نے

Rate it:
Views: 537
30 Jun, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL