تیری آرزو بن جاوں تیرا جنون بن جاؤں
Poet: شفق By: Shafaq, Lahoreتیری آرزو بن جاوں تیرا جنون بن جاؤں
سوچے جو تو کسی بارے میں کبھی
ترے خیال کی تصویر بن جاؤں
نگاہوں کا تیری سرور ہوں
دل کی مراد بن جاؤں
تو شاعر ہو محبتوں کا
اور میں تیری غزل بن جاوں
تو خاموش رہ کر مجھے دیکھتا رہے
میں تیرے ان کہے الفاظ بن جاؤں
تو ہمیشہ خوش رہے شاد رہے
میں تیرے مسکرانے کا سبب بن جاؤں
اداس جو ہو تو کسی شام کو
میں تیرے لیے ایک خوب صورت رات بن جاؤں
تو چاند کی طرح چمکتا رہے
اور میں تیری دیوانگی میں چاندنی بن جاؤں
کھلی آنکھوں سے تو مجھے دیکھے
بند ہو تیری آنکھیں تو تیرا خواب بن جاؤں
ہے بس اتنی سی آرزو
میں تیرے نام سے جانی جاؤں
اور تیری پہچان میں بن جاؤں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






