تیری آنکھوں میں وہ سپنے ہیں کہ نہیں
Poet: Mubeen By: Mubeen, Islamabadتیری آنکھوں میں وہ سپنے ہیں کہ نہیں
ادھورے خواب وہ رتجگے ہیں کہ نہیں
پرندوں کے نغموں کیلئے بیتاب
رات کے پہلو میں وہ سویرے ہیں کہ نہیں
ستاروں کی گزرگاہوں سے کہکشاں تک
وہ رستے اب بھی جگمگاتے ہیں کہ نہیں
چاندنی راتوں میں پورے چاند کے منظر
اب بھی لہروں میں شور اٹھاتے ہیں کہ نہیں
وہ نسیم سحر میں خوشبوؤں کے جھونکے
رخسار گل پہ شبنم کے قطرے ہیں کہ نہیں
وہ آرزؤں کے خواہشوں کے سلسلے
وہ اپنے ہی دل پر اختیارات ہیں کہ نہیں
وہ بارشوں میں قوس و قضا کے منظر
اب بھی موسم کا حسن بڑھاتے ہیں کہ نہیں
وہ پھولوں کے گجرے وہ مہندی کا رنگ
سادگی حسن پر بہار لاتے ہیں کہ نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






