تیری آنکھوں میں ڈوب کر دیکھا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillدل کو جذبوں کی نوک پر دیکھا
یہ تماشہ بھی عمر بھر دیکھا
منزلوں کو بچشم تر دیکھا
ہر گھڑی اک نیا سفر دیکھا
وہ جو اک کانچ سا تعلق ہے
اپنی سانسوں سے معتبر دیکھا
کسی کی بے وفائی یاد آئی
جب کوئی ٹوٹا ہوا پر دیکھا
کیا کلی چاند ستارے شبنم
تیرا ہی روپ ہے جدھر دیکھا
خواب میں سیپ میں یا جنت میں
سوچتا ہوں تمہیں کدھر دیکھا
زندگی کس بلا کو کہتے ہیں
تیری آنکھوں میں ڈوب کر دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






