تیری آنکھوں کی مستیاں پا کے
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanخیر ہو میرے آشیانے کی
سازشیں ہیں اسے جلانے کی
مجھ سے تم میرا حال مت پوچھو
میری عادت نہیں بتانے کی
ذکر کرتے ہو میرے ما ضی کا
بات کرتے ہو دل دکھانے کی
تم کو دعویٰ بھی ہے محبت کا
اور ہے فکر بھی زمانے کی
منتوں سے اگر وہ آ بھی گیا
اس کو جلدی رہے گی جانے کی
دنیا داری کے بھی تقاضے کیا
زندگی ہے تو بس دیوانے کی
سوگواری ہو یا خوشی کوئی
ان میں رسمیں ہیں بس دکھانے کی
نیند ہے یا کہ روٹھی محبوبہ
کی تو کوشش اسے منانے کی
تیری آنکھوں کی مستیاں پا کے
میں نے رہ چھوڑ دی میخانے کی
یاد آتا ہے اب بھی شام و سحر
کوششیں کیں جسے بھلانے کی
دل میں رنجیدگی سی چھانے لگی
کی تمنا جو مسکرانے کی
میں تھا غصہ میں تم نے بھی نہ کوئی
بات کی میرا دل لبھانے کی
کر ادا شکر ایک ہی پل میں
سخت مشکل یہ حل خدا نے کی
دل پہ پہرے بٹھائے تھے ، تم نے
چوری کر لی ہے اس خزانے کی
اس نے کرنا ہی نہ تھا کام مرا
بس تھی مصروفیت بہانے کی
مجھ کو آنکھیں وہ یاد آنے لگیں
بات تھی جام کی ، پیمانے کی
چھوڑ دو کچھ بھلی نہیں عادت
رات بھر خود کو یوں جگانے کی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






