تیری اوڑھ
Poet: lubna By: LUBNA, NARANG MANDIبن کے پتنگ اڑ جاؤں تیری اوڑھ
ہوا کی سرگوشیوں میں کھو جاؤں تیی اوڑھ
اس حسن بے پرواہ کی اک جھلک چاہیے
کہ ڈھونڈ رہی ہوں تیرا رستہ تیری اوڑھ
بن تیرے شہر میں عجب خاموشی چھائ ہے
لوٹ بھی آؤ کہ اٹھی حرف شکایت بن کے صداتیری اوڑھ
کس ے پوچھوں تیرے آنے کی خبر جاناں
دستکیں دیتں ہیں گلیوں میں ہوائیں تیری اوڑھ
میں آرزوؤں کی اس منزل پہ ہوں رواں
گمنام راستوں پہ چل دیئے تیری اوڑھ
اس کی ہر آہٹ پہ دل لرزتا ہے نور
جیسے ساری دنیا سمٹ گئ ہے تیری اوڑھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






