تیری ایک ایک بات اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
Poet: M Masood By: M Masood, Nottinghamتیری ایک ایک بات اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیرے ہونٹوں سے نکلا ہر لفظ یاد ہے مجھے آج تک
تو نہ تھا تو تھے ہم بچپن کی ہر ایک خوشی میں
تیرے سنگ ملے جو غم ہر غم یاد ہے مجھے آج تک
تیرے ساتھ چلے تھے زندگی کے کچھ دن جب ہم
اور کیسے جدا ہوۓ راستے یاد ہے مجھے آج تک
تیرا وہ چلنا کبھی ہنس کے کبھی غُصے میں گزرنا
تیری وہ ایک ایک ادا اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
کیا دن تھے تیری طرف دیکھتے پرواہ نہ تھی کسی کی
اور وہ بے پرواہی کا عالم اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیری آمد کی خبر پر خوشی سے جھُومنا اور چلانا
وہ بے خودی کا عالم اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیرے سامنے آتے ہی مجھے میں ہر بات بھول جاتا ہوں
بے خودی میں تجھے دیکھنے کا عالم یاد ہے مجھے آج تک
تیرے آنے کی دعائیں کرنے تجھے مانگنا ہے دعاوُں میں
اپنے ملن کیلۓ ہاتھوں کا اُٹھنا یاد ہے مجھے آج تک
جدائی تو لکھی تھی ہاتھوں کی لکیروں پر مسعود
آخری دن تیرا یوں دیکھنا اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






