تیری ایک ایک بات اب بھی یاد ہے مجھے آج تک

Poet: M Masood By: M Masood, Nottingham

تیری ایک ایک بات اب بھی یاد ہے مجھے آج تک
تیرے ہونٹوں سے نکلا ہر لفظ یاد ہے مجھے آج تک

تو نہ تھا تو تھے ہم بچپن کی ہر ایک خوشی میں
تیرے سنگ ملے جو غم ہر غم یاد ہے مجھے آج تک

تیرے ساتھ چلے تھے زندگی کے کچھ دن جب ہم
اور کیسے جدا ہوۓ راستے یاد ہے مجھے آج تک

تیرا وہ چلنا کبھی ہنس کے کبھی غُصے میں گزرنا
تیری وہ ایک ایک ادا اب بھی یاد ہے مجھے آج تک

کیا دن تھے تیری طرف دیکھتے پرواہ نہ تھی کسی کی
اور وہ بے پرواہی کا عالم اب بھی یاد ہے مجھے آج تک

تیری آمد کی خبر پر خوشی سے جھُومنا اور چلانا
وہ بے خودی کا عالم اب بھی یاد ہے مجھے آج تک

تیرے سامنے آتے ہی مجھے میں ہر بات بھول جاتا ہوں
بے خودی میں تجھے دیکھنے کا عالم یاد ہے مجھے آج تک

تیرے آنے کی دعائیں کرنے تجھے مانگنا ہے دعاوُں میں
اپنے ملن کیلۓ ہاتھوں کا اُٹھنا یاد ہے مجھے آج تک

جدائی تو لکھی تھی ہاتھوں کی لکیروں پر مسعود
آخری دن تیرا یوں دیکھنا اب بھی یاد ہے مجھے آج تک

Rate it:
Views: 883
21 Apr, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL