تیری باتیں تیری یادیں تیرا چہرا خواب کر دونگا
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinتیری باتیں تیری یادیں تیرا چہرا خواب کر دونگا
عمرِ رواں کو ایسے جیوں گا کے عذاب کر دونگا،
دہر کی سوچ سے بھی اونچے ارادے ہیں میرے،
میں وقت آنے پے سب کو لاجواب کر دونگا
تیری فرقت کو کبھی نہ بننے دونگا عادت اپنی،
میں اپنی دنیا میں تجھے بے حساب کر دونگا
کاروانِ ابر لے کر میں جب تیرے کوچے سے گذرا،
خوشبؤِ فراق سے شھر کی گلیوں کو گلاب کر دونگا
رکھوالا ہوں تیری دہلیز کا یہ فکرِ لحد کی بات ہے،
کے مرونگا تو خد کو تیرے چہرے کا نقاب کر دونگا
وہ لمسِ ماضی میری آنکھ کا خواب تھے جیسے،
میں اب گذرے لمحوں کو رفہ دفہ جناب کر دونگا
تدفین میری کسی آگ میں ہی کر دینا احسن،
مئےنوشِ زمانہ ہوں ارضِ قبر کو خراب کر دونگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






