تیری بے روحی نے مجھے میرے رب سے ملا دیا
Poet: خاکزار مدثر By: خاکزار مدثر, Rawalpindiمیں بارہا تیرے چھوڑ جانے کا کروں گا تیرا شکر ادا
کہ تیری بے روحی نے مجھے میرے رب سے ملا دیا
میں خوش ہوں تیرے مجھے اس قدر بے ایمان کہنے سے
کہ تیرے اس پختہ ارادے نے مجھے میرا اصل ایمان لٹا دیا
شدید درد ہے میرے سینے میں تیرے چھوڑ جانے کا
کے شکر گزار ہوں تیرے دیے اس خالی پن کا، مجھے نمازی بنا دیا
مجھے حسرتوں میں ہی رکھا تو نے خودکو بے نقاب دیکھانے سے
شکر گزار ہوں تیرے اس پردے کا، کہ انسانی عشق سے پردہ اٹھا دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






