تیری تصویر سے باتیں
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMسکوں سے میرے دن کٹتے ہیں نہ راتیں
دن رات کرتا ہوں تیری تصویر سے باتیں
اب تو ہر رشتے میں خودغرضی شامل ہے
نہ پہلے سی وہ مروتیں ہیں نہ ہی چاہتیں
پہلے کسی گلی محلے میں نظر آجاتے تھے
اب شاپنگ سینٹر میں بھی ہوتی نہیں ملاقاتیں
میرا دل توڑنے والےآج اداس بیٹھے ہیں
ہم کو تو ان سے نہ شکوے ہیں نہ شکایتیں
کبھی ہر روز فون کرتے تھےاصغر کو
اب نہ جانے کہاں گئیں وہ پیار بھری سوغاتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







