تیری دوریوں کے سوا چاھتا ہوں
Poet: aqeel abbas jafi ,akki, By: Aqeel abbas jafri AKKI, lahoreتیری دوریوں کے سوا چاھتا ہوں
تجھے کیا خبر کہ میں کیا چاھتا ہوں
قبل از سحر ہی مدھم ہو رہا ہوں
بجھا جا رہا ہوں جلا چاھتا ہوں
کل اک بار پھر اپننے شعروں سے میں نے
سنا ہے تجھے بےبہا چاھتا ہوں
میں مجنوں نہیں ہوں اے اہل تمنا
کسی شخص کو اسطرح چاھتا ہوں
دل و جاں سے تجھ سے ہوں مانوس اتنا
تجھے روبرو ہرجگہ چاھتا ہوں
بہت بے ادب ہوںبرابےصبرہوں
جو ہرچند تیراسامناچاھتااہوں
عقی مانامجھکوبہت چاھتےہو
کبھی مجھ س پوچھا میں کیا چاھتا ہوں؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






