تیری دیوانگی میں حد سے گزرنے کو جی چاھتا ھے
Poet: Muhammad Adnan By: Muhammad Adnan, Depalpurتیری دیوانگی میں حد سے گزرنے کو جی چاھتا ھے
جس سمت رھے تو خوش ادھر بڑھنے کو جی چاھتا ھے
ویسے تو ملتے ھیں بھتوں سے ھم روز
تم سے جو ملنا ھو تو سنورنے کو جی چاھتا ھے
ویسے تو کتابوں سے لگاو نھیں کچھ خاص
جو کتاب تم چھوؤں اسے پڑنے کو جی چاھتا ھے
ویسے توالفاظ سے کچھ واستھ نھیں ھمارا
پر تیری تعریف میں کچھ لفظ لکھنے کوجی چاھتا ھے
جی تو چاھتا ھے تیرے ساتھ زندگی گزار دو عدنان
تو ھی اگر نہ مل سکے تو پھر مرنے کو جی چاھتا ھے۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






