تیری راہوں میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں

Poet: M Masood By: M Masood, Nottingham

تیری راہوں میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں
تیرا انتظار کئی جنموں سے کرتا آ رہا ہوں

نہ جانے اِس جنم میں ملوں گا یا اگلے جنم میں
خُدا سے بس یہی سوال پُوچھتا رہتا ہوں

وہ خامُوش رہا وہ خامُوش دریا ہے
پر تیری خامُوشی کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں

ریت پر نام لکھتا ہوں اور اشکوں سے بہا دیتا ہوں
کب سجھو گے تم مجھے اِس آس پر جیۓ جا رہا ہوں

وہ تو ہمارے ساتھ روز نیا ایک وعدہ کر لیتے ہیں
پر کوئی وعدہ جو نھبا سکو اُس وعدے کا انتظار کر رہا ہوں

وہی چہرہ جیسے دیکھنے کی عادت لوگ ڈالتے ہیں مسعود
ہر گلی ہر مُوڑ ہر شخص میں آج اُس کا چہرہ ڈھُونڈ رہا ہوں
 

Rate it:
Views: 963
03 Apr, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL