تیری غفلتوں کو خبر نہیں

Poet: Rimi By: Rimi,

تیری غفلتوں کو خبر نہیں
میری زندگی کا سوال ہے
تجھے دیکھے بن جو جی لیے
انہی لمحوں کا ملال ہے

تیرے لمس کی ہے آرزو
تیری دید کی ہے تشنگی
کبھی کہیں سے تو آ کے مل مجھے
ابھی ملنے کا جواز ہے

کوئی گیت ایسا گنگنا
کوئی راگ ایسا چھیڑ دے
میری روح کے تار کو دیکھنا
تیری سر کا اب کمال ہے

تو جو بچھڑ گیا مجھے غم نہیں
تو ملا نہیں یہ ستم نہیں
میں جو جی رہا ہوں ابھی تلک
یہ سوچنا ہی محال ہے

اب لوٹ بھی آؤ کہ تیرے بن
کوئی خوشی نہ مجھ کو راس ہے
آہ! کاش میں بھی کہہ سکوں
آج مریض عشق بحال ہے
آج مریض عشق بحال ہے

Rate it:
Views: 1727
31 Jul, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL