تیری نظر میں کوئی کشش نہ میرے اندازبیان میں ہے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamتیری نظر میں کوئی کشش نہ میرےاندازبیاں میں ہے
مگریہ تو دیکھ کہ کتنی مٹھاس میرئ زبان میں ہے
دیکھنا ایک دن اپنے بخت کا ستارہ چمکے گاضرور
ابھی بادلوں کی اوٹ میں چھپا آسمان میں ہے
میرےلیے فقط صرف تو ہی میری کل کائنات ہے
تجھ سی نہ کوئی اور اس سارےجہان میں ہے
جب ہم ایک دوسرے کے دل کہ قریب ہیں
پھر کیوں اتنی دوری ہمارے درمیان میں ہے
اصغر کو تیری ہر بات بڑی پیاری لگتی ہے
یہ نہ سمجھ کہ قصیدہ تیری شان میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






