تیری وفا تیری حرمت پہ حرف آتا ہے
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadتیری وفا تیری حرمت پہ حرف آتا ہے
جو سچ کہوں تو محبّت پہ حرف آتا ہے
خود اپنے حسن سے تو بدگماں نہ ہو جاناں
یوں آئینے کی صداقت پہ حرف آتا ہے
بس ایک خواب تھا شائد تمہارا ملنا بھی
یقیں کروں تو حقیقت پہ حرف آتا ہے
میں اپنے دل کو بناؤں خوشی کا مسکن کیوں
تمھارے غم کی علامت پہ حرف آتا ہے
یہ اپنے خواب زمانے کی آنکھ میں رکھ دوں
مگر کسی کی امانت پہ حرف آتا ہے
ستمگروں کو لہو اپنا بخش دے شاہی
وگرنہ رسم سخاوت پہ حرف آتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






