تیری پلکوں میں چمکتا پانی ہے

Poet: آیان آفتاب By: آیان آفتاب , Tandoallahyar

تیری پلکوں میں چمکتا پانی ہے تو میری اداسی کا بانی ہے
تیری انگلی میں انگوٹھی کالی ہے تو میرے سرمی کی کانی ہے

میں بیٹھا ہوں کچی پٹڑی پے نہ تیری آواز ہے نا چھوڑی کوئی نشانی ہے
عدالت میں تیرے گواہ جھوٹے اور دھوکے باز پھر بھی عمر قید میری آنکھ دھانی ہے

دن رات تیری ہر بات مجھے یاد آتی ہے اور تجھ سے نفرت میری کہانی ہے
مٹاتا ہوں لال رنگ کو، کیوں کہ مذید تیرے لبوں کی غلامی ہوتی ہے

صحرا میں رات گزاروں گا، آنگن آنگن تیری تصویر بناؤںگا۔
نیند سے جب آفتاب بیدار ہوتا ہے یہی قول اس کو یاد آتا ہے

Rate it:
Views: 340
01 Nov, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL