تیری ہی دید ، تیری مجھے ہر خوشی پسند
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیری ہی دید ، تیری مجھے ہر خوشی پسند
تیرے بغیر کب ہے مجھے زندگی پسند
ہر سمت گونجتی ہے اذانِ وفا یہاں
یہ عشق میرا دین ، مجھے عاشقی پسند
اپنے وجودِ زیست میں کانٹوں کے باوجود
گلشن میں ہے گلاب کو بھی ہر کلی پسند
مجھ کو بھی اُس کے پیار کا انداز بھا گیا
اُس کو بھی میرے ہونٹوں کی ہے نازکی پسند
یا رب ! نہ کوئی شوخ نہ چنچل ہی بھیجنا
مجھ کو ہیں وہ پسند جنہیں سادگی پسند
دشتِ غمِ حیات میں بھرنے کو روشنی
اب کم ہیں اس جہان میں یہ تیرگی پسند
دورِ جدید میں یہاں چاہت کے باوجود
وشمہ نہیں ہے آدمی کو آدمی پسند
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






