تیری یاد کا رقص

Poet: Syed Najam SAQI By: Syed Najam SAQI, Dubai

آج پھر ہوا تنہائی میں تیری یاد کا رقص
ان اشکوں کی سچائی میں تیری یاد کا رقص

تجھ خوبرو کی شہرت کا باعث میری تزلیل
مجھ ناچیز کی رسوائی میں تیری یاد کا رقص

اس دل کے آئینے میں عیاں تیری تصویر
ان آنکھوں کی گہرائی میں تیری یاد کا رقص

میرا ہر شعر زمانے کو بھلا لگتا ہے
میرے الفاظ کی پزیرائی میں تیری یاد کا رقص

میری ہر سوچ ہے وابسطہ تیری یادوں سے
میری ہر ٹوٹتی انگڑائ میں تیری یاد کا رقص

میرے ہونٹوں پہ نغمے رواں ہیں تیرے
میری پلکوں کی جھپکائی میں تیری یاد کا رقص

اشکوں کے سنگ ٹپکتی ہوی تیری یاد کا تسلسل
ہر بجتی ہوی شہنائی میں تیری یاد کا رقص

میرا ہر انداز زمانے سے جدا ہے سید
مری گویای میں،بینای میں تیری یاد کا رقص

Rate it:
Views: 1506
09 Sep, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL