تیری یاد کے سہارے بسر زندگی ساری

Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: Mirza Abdul Aleem Baig, Hefei, Anhui, China

گردن کا طوق
پاؤں کی زنجیر
ہجر کا پتھر
رُوٹھی بارش
سُوکھا دریا
مقدر کی دھوپ
سایہء دیوار
لوٹ آنے کا یقین
اک لمحہِ فرقت
اک غمِ قیامت
اک خواب زیارت
اک نقش تصور
اک وہم حقیقت
اک دورِ قیامت
اک زخم اذیت
اک چہرہ فیضِ رساں
اک نام تہمت
بے انتہا تنہائی
سحر تنہائی
شام تنہائی
رات تنہائی
آب و ہوا تنہائی
رابطہ تنہائی
راستہ تنہائی
ابتدا تنہائی
انتہا تنہائی
مدعا تنہائی
مسلسل تنہائی
خاموش فضا
رستہ لمبا
قدموں کی آہت
آنکھوں میں نمی
اک خواب ریزہ ریزہ
چھن گئی جاگیر
کھو گئی تقدیر
غم اور نہ کوئی خوشی
تیری یاد کے سہارے
بسر زندگی ساری
 

Rate it:
Views: 828
25 Oct, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL