تیری یاد ہی بس جِلاتی رہے گی
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaتیری یاد ہی بس جِلاتی رہے گی
یہی نیّا اپنی چلاتی رہے گی
کبھی من یہ ڈولے کبھی من یہ مچلے
یہ حالت ہی جی کو لُبھاتی رہے گی
کبھی بیقراری کبھی نا صبوری
یہی یاد تیری ستاتی رہے گی
کبھی چوٹ کھائے کبھی دل یہ ٹوٹے
یہی چوٹ قربت بڑھاتی رہے گی
جو تم پاس ہو زندگی بس حقیقت
یہ ہی کیفیت جی کو بھاتی رہے گی
جو تم دور ہو زندگی بس فسانہ
یہ ہی کیفیت جی کو ڈھاتی رہے گی
کبھی آنسوؤں کی لڑی لگ ہی جائے
یہی اپنی حسرت رلاتی رہے گی
کبھی تو خوشی سے نہ پھولے سمائیں
یہ چاہت تیری غم مٹاتی رہے گی
تری یاد سے اثر کو بس سکوں ہو
تیری یاد دل میں سماتی رہے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






