تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ھو گا
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillتیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
ایک خاموش سادہ سا وہ آدمی
تیری راہوں میں آ کے جو رسوا ہوا
جس کی تقدیر کانٹوں سے لکھی گئی
جس کا دل چند لمحوں میں توڑا گیا
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
وہ جسے اپنی ہستی کی خواہش نہ تھی
وہ جو تیری محبت کا دیوانہ تھا
وہ جسے دنیا والوں نے مجنوں کہا
تیری شمع کا جو ایک پروانہ تھا
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
تو نہ آتی تھی جب ایک پل کو نظر
تو نظارے جسے لگتے ویران سے
وہ جسے تو نے پیغام الفت دیا
اپنی آنکھوں کی خاموش مسکان سے
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
وہ جسے تو نے چھوڑا ہے دریا کے بیچ
تیری سوچوں کو اب بھی ستاتا ہو گا
تجھ سے وابستہ تھا جس کا سارا جہاں
تیرے خوابوں میں اب بھی وہ آتا ہو گا
تیری یادوں کو اب بھی سجاتا ہو گا
ایک خاموش سادہ سا وہ آدمی
تیری راہوں میں آ کے جو رسوا ہوا
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






