تیری یادوں کو میں اس دل سے نکالوں کیسے
Poet: Kamal Hussain Balti By: Kamal Hussain, muslim colony bari imam islamabadتیری یادوں کو میں اس دل سے نکالوں کیسے
ایسے حالات میں میں خود کو سنبھالوں کیسے
تیرے ہی سنگ گزرتا تھا ہر اک لمحہ میرا
میں اپنی عمر تیرے بن یہ گزاروں کیسے
میرے ہر زخم پہ مرہم تو ہی لگاتا تھا
تو بتا اب میرا یہ زخم بھرے گا کیسے
میرے ہر درد کو ہنس ہنس کے بانٹ لیتے تھے
تیرے بن اب میرے یہ درد بٹیں گے کیسے
تیری یادوں کو بھولا سکتا نہیں ہوں میں جب
میری چاہت کو بھولاؤ گے بھلا تم کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







